ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سپریم کورٹ نے پاکستانی قیدیوں کے رہائی معاملے کو 14 نومبر، 2017 تک ملتوی کیا

سپریم کورٹ نے پاکستانی قیدیوں کے رہائی معاملے کو 14 نومبر، 2017 تک ملتوی کیا

Thu, 27 Jul 2017 11:06:27    S.O. News Service

نئی دہلی،26جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ا یس انڈیا)جسٹس مسٹر اے کے سیکری اور جسٹس مسٹر اشوک بھوشن کی صدارت والی سپریم کورٹ کی بینچ نے آج ہندستانی یونین کی جانب سے پیش ہوئے وکلا کو ایک دہائی سے زیادہ بغیر ٹرائل کے ہندستان کی مختلف جیلوں میں بند غیر ملکی قیدیوں، جن میں پاکستان، پاک مقبوضہ کشمیر اور افغانستان کے شہری شامل ہیں،پر ' اسٹیٹس رپورٹ 'داخل کرنے کی ہدایت دی۔ سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ کی طرف سے دائر پٹیشن نمبر. 310/2005 پر ہندستانی یونین نے اپنے جواب میں یہ تسلیم کیا کہ مختلف ہندستانی جیلوں میں بند 254 ایسے قیدیوں، بیشتر پاکستانی اور پاک مقبوضہ کشمیرکے ہیں، کو رہا کر دیا گیا تھا۔پروفیسر بھیم سنگھ نے سپریم کورٹ کے سامنے بتایا کہ پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر کے کئی قیدیوں کو مختلف ہندستانی جیلوں میں کئی برسوں سے بند کیا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر کو جموں و کشمیر عوامی سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست میں لیاگیاہے۔ انہوں نے پرزور طریقہ سے عدالت کے سامنے دلیل دی کہ عوامی سیفٹی ایکٹ کے تحت کسی بھی قیدی کودوبرس سے زیادہ وقت تک حراست میں نہیں رکھاجاسکتا۔ہندستانی یونین کو اس برس مئی میں ہدایت دی گئی تھی کہ وہ پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر کے قیدیوں پر اسٹیٹس رپورٹ داخل کرے، جنہیں ہندستان کی مختلف جیلوں میں حراست میں لیا گیا ہے اور اس کا کیا سبب ہے۔سپریم کورٹ نے اس کے لئے 26 جولائی، 2017 کو معاملے کی سماعت طے کی تھی۔سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے افسوس ظاہر کیا کہ ہندوستانی یونین نے اپنی سزا پوری کر چکے ہندستانی جیلوں میں بند پاکستانی قیدیوں کی سماعت اور رہائی کے سلسلے میں ہندستان کی سپریم کورٹ کے ذریعہ دیئے گئے ہدایات پر غور و خوض نہیں کیا۔ عدالت عظمی کی بینچ نے 'اسٹیٹس رپورٹ' داخل کرنے کے لئے ہندستانی یونین کی نمائندگی کرنے والے وکلا کو ایک موقع فراہم کیا اور کہا کہ 14 نومبر، 2017 کو معاملہ درج فہرست کیا جائے۔


Share: